بھارتی ریاست کرناٹکا کی عدالت نے طالب علموں سے کہا کہ وہ حجاب اور اسکارف پر پابندی کے حوالے سے درخواستوں کا فیصلہ آنے تک کوئی بھی مذہبی لباس نہ پہنیں۔
ریاست کرناٹکا کچھ اسکولوں کی جانب سے حجاب پر پابندی کو طالبان نے عدالت میں چیلنج کیا ہے اور عدالت انہیں درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی نے کہا کہ ہم ایک آرڈر پاس کریں گے لیکن جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہو جاتا، کوئی بھی طالب علم مذہبی لباس پہننے پر اصرار نہ کرے۔
دی وائر کے مطابق درخواست گزاروں کی نمائندگی کرنے والے وکلا نے عبوری حکم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے حقوق کی معطلی کے مترادف ہے لیکن عدالت نے کہا کہ یہ چند دنوں کا معاملہ ہے اور آج سماعت ملتوی کردی۔
عدالت نے ریاست کو ان اسکولوں اور کالجوں کو دوبارہ کھولنے کی بھی ہدایت کی جنہیں وزیر اعلیٰ نے پابندی کے خلاف بڑھتے ہوئے احتجاج کے سبب تین دن کے لیے بند کر دیا تھا۔
یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب گزشتہ ماہ کرناٹک کے ضلع اڈوپی میں ایک سرکاری اسکول نے حجاب پہننے والی طالبات کو کلاس روم میں داخل ہونے سے روک دیا تھا جس کے بعد طالبات نے اسکول کے دروازے کے باہر احتجاج شروع کردیا تھا، ریاست کے مزید اسکولوں کی جانب سے اسی طرح کی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد عدالت مداخلت پر مجبور ہو گئی تھی۔
اس ناخوشگوار معاملے پر مسلم طلبا خوف و ہراس کا شکار ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ہندو اکثریتی ملک میں انہیں ان کے مذہبی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے اور پیر کو اس پابندی کے خلاف سینکڑوں طلبا اور والدین نے سڑکوں پر احتجاج کیا تھا۔
کرناٹکا میں اس تنازع کے بعد بھارت میں دیگر جگہوں پر بھی احتجاج شروع ہو گیا تھا، جمعرات کو دارالحکومت نئی دہلی میں متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا تھا اور حالیہ دنوں میں حیدرآباد اور کولکتہ سمیت دیگر شہروں میں بھی طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے مارچ کیا تھا۔
گزشتہ روز کولکتہ میں سینکڑوں طلبا نے پابندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نعرے کرنے کے ساتھ ساتھ سڑکیں بھی بلاک کر دی تھیں۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ احتجاج کرنے والی طالبات میں زیادہ تر حجاب پہننے والی خواتین تھیں اور طلبا نے جمعرات کو دوبارہ احجاج کا منصوبہ بنایا تھا۔
دریں اثنا کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ ہندوستان میں مذہبی لباس جیسے سکھوں کی پگڑی، گلے میں صلیب یا ماتھے پر تلک پر پابندی لگانے کا کوئی قانون موجود نہیں، ان سب پر فرانس کے سرکاری اسکولوں میں پابندی ہے لیکن ہندوستان میں اس کی اجازت ہے۔
گزشتہ ہفتے کانگریس پارٹی کے مرکزی رہنما راہول گاندھی نے بھی پابندی کی مخالفت کرتے ہوئے ٹوئٹ کی تھی کہ طالبات کے حجاب کو بنیاد پر ان کی تعلیم کی راہ میں حائل ہو کر ہم ہندوستان کی بیٹیوں کے مستقبل پر ڈاکا ڈال رہے ہیں۔
اس معاملے کو پاکستان میں بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بدھ کے روز ٹوئٹ کی تھی کہ مسلمان لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور صورتحال کو بالکل جابرانہ قرار دیا تھا۔
وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی اور پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی نے اعلان کیا تھا کہ جمعے کا دن ہندوستان کی بیٹیوں کے ساتھ یکجہتی کے دن کے طور پر منایا جائے گا۔
نوبل امن انعام یافتہ اور تعلیمی کارکن ملالہ یوسفزئی نے بھی پابندی کی مذمت کی۔
24 سالہ ملالہ نے ٹوئٹ کی تھی کہ لڑکیوں کو حجاب پہن کر اسکول نہ آنے دینا خوفناک ہے۔
مسلمان خواتین کی اکثریت کے لیے حجاب ان کے ایمان کا حصہ ہے البتہ کچھ مغربی ممالک خصوصاً فرانس میں کئی دہائیوں یہ معاملہ تنازع کا باعث رہا ہے جہاں 2004 میں سرکاری اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

No comments:
Post a Comment